میری ڈیلی کی روٹین
میری ڈیلی کی روٹین
السلام علیکم دوستو پیارے دوستوں میرا نام مقصود احمد ہے میں پاکستان کے شہر ملتان میں رہتا ہوں۔ بھائی جان آج کے اس بلاگ میں میں اپ کو اپنی زندگی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ اپنی ڈیلی کی روٹین کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں دوستو میں شادی شدہ آدمی ہوں۔
میرے بچوں کی تعداد
میرا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں الحمدللہ بہت اچھی زندگی بسر ہو رہی ہے اللہ پاک کا بہت شکر گزار ہوں۔ اس بے نیاز ذات کا احسان مند ہوں وہ جس حال میں بھی رکھے ہم کو اسی حال میں خوش رہنا ہوتا ہے زندگی میں مشکلات تو آتی ہیں لیکن انسان کو صبر سے کام لینا چاہیئے۔
کبھی زندگی میں اچھے دن آتے ہیں اور کبھی برے لیکن یہ انسان کا ایک امتحان ہوتا ہے۔ اللہ پاک کی ذات انسان کو چیک کر رہی ہوتی ہے انسان کو رزق دے کر بھی آزمایا جاتا ہے اور اسے لے کر بھی آزمایا جاتا ہے۔ اگر انسان کے اوپر عروج ہے یعنی کہ اس کے پاس مال دولت بہت زیادہ ہے تو اس کو چاہیے۔
غرور اور تکبر
کہ وہ غرور تکبر نہ کرے اکثر میں نے دیکھا ہے کہ جب انسان کے پاس دولت زیادہ آتی ہے تو وہ انسان کو انسان ہی نہیں سمجھتا وہ غریب آدمی سے سلام لینا گوارا نہیں کرتا اس کی بات کو اہمیت نہیں دیتا اور اگر اس کے سامنے کوئی دوسرا امیر آدمی آ جائے تو وہ اس کی بہت عزت کرتا ہے۔
حالانکہ اس کی بات بے وقوفوں والی بھی ہو تو وہ کہتا ہے کہ اس نے بڑی سمجھدار بات کی ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس کی بات میں وزن نہیں ہوتا اسی لیے تو بزرگوں کا کہنا ہے پنجابی میں ایک کہاوت ہے کہ جن دے گھر دانے ان دے کملے بھی سیانے۔
اسی لیے دوستو اگر آپ کے اوپر آج اچھا وقت ہے تو برے وقت کی بھی امید رکھو اور اگر برا ہے تو اچھے کی امید رکھنی چاہیے اور اگر آپ برے وقت سے بچنا چاہتے ہیں تو آچھے وقت میں غریب انسانوں کی مدد کریں انشاءاللہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔
کہ آپ کے اوپر کبھی برا وقت نہیں آئے گا کیونکہ جب آپ اپنی حلال کی کمائی سے غریبوں کی مدد کرتے ہیں تو اللہ پاک آپ کو غیب سے رزق عطا فرماتا ہے اور آپ کے اوپر عروج بڑھتا جائے گا۔
اپنے بارے میں
دوستوں میں ایک مزدور آدمی ہوں میں ایک اینٹوں والے بھٹے پر منیجر ہوں میری تنخواہ 25 ہزار مہینہ ہے الحمدللہ ہم دو میاں بیوی اور ہمارے تین بچے ہیں دوستو آپ لوگوں کو جو پاکستان میں رہتے ہیں ان کو تو مہنگائی کا پتہ ہے اور جو میرے دوست پاکستان سے باہر رہتے ہیں۔
![]() |
| اینٹوں والا بھٹہ |
انہوں نے بھی پاکستان میں مہنگائی کے بارے میں سنا ہوگا اتنی مہنگائی میں 25 ہزار روپے ماہانہ کما کر گزارا کرنا بڑا مشکل ہے لیکن اس کے باوجود میں بہت خوشحال ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنے حق حلال کی کمائی کرتا ہوں۔
اور اللہ پاک اس میں برکت ڈال دیتا ہے الحمدللہ اس 25 ہزار میں میرا اچھا گزارا ہو جاتا ہے لیکن اس کو استعمال کرنے کا بھی ایک طریقہ ہے وہ یہ ہے کہ اپنی اوقات سے بڑھ کر کوئی کام نہیں کرتا اگر میری اوقات دال سے روٹی کھانے کی ہے تو میں گوشت کے ساتھ کیوں کھاؤں گا۔
اگر ایسا کروں گا تو گزارا بہت مشکل ہوگا اسی لیے اللہ پاک جس حال میں بھی رکھے انسان کو خوش رہنا چاہیے دوستو اب کچھ دیر کے لیے میں آپ بھائیوں سے اجازت چاہتا ہوں انشاءاللہ اگلے بلاگ میں ہم مزید بات چیت کریں گے۔
آپ بھائیوں سے گزارش ہے کہ مجھے فالو ضرور کریں اپ کو فالو کا بٹن دکھ رہا ہوگا اس کو فالو ضرور کریں اس کے بعد میں آپ کو اینٹوں والے بھٹے کے بارے میں بھی بتاؤں گا اور اپنی زندگی کے یادگار لمحہ بھی آپ سے شیئر کروں گا۔
آپ بھائیوں نے مجھ کو کمنٹ میں اپنے بارے میں ضرور بتانا ہے کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہو اور اپنا نام بھی ضرور بتائیں شکریہ اللہ حافظ

Comments
Post a Comment